Archive for July 22nd, 2006
غنڈہ گرد ہوں میں
زکریا صاحب آپ کو ویسے تو ہر بات پر افسوس ہوتا ہے، لیکن ایک طرف آپ روشن خیال ہونے کا کہ کر خود بات کو مختلف زاویوں سے نہیں دیکھتے بلکہ صرف روشن خیالی کی طرف سے ہی دیکھتے ہیں۔ پولیس تب تک مجرم کو نہیں پکڑ سکتی جب تک خود کو مجرم کی جگہ رکھ کر نہ سوچے۔۔ تو آپ صرف روشن خیال رہ کر کیا کر پائیں گے؟ کالو نے جو زبان استعمال کی ہے میں پچھلی کسی تحریر کے تبصروں میں اس کی مذمت کر چکا ہوں، اور اب بھی کرتا ہوں گو میری خود کی زبان کچھ شائستہ نہیں مگر۔۔۔ گالیوں سے اجتناب ہی کر رہا ہوں۔۔۔ جہاں تک اپنے بلاگ پر ایسی زبان کو اپنے بلاگ پر نہ برداشت کرنا خود آپ کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوگی۔ میں اس کا تبصرہ ختم نہیں کروں گا، آزادی اظہار رائے کے نام پر اگر خود کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نشانہ بنوانا روشن خیالی ہے تو کالو کے تبصروں کو بھی ختم نہیں کیا جائے گا۔۔۔ ہاں کالو سے اتنا ضرور کہوں گا کہ زرا تہزیب کے دائرے میں رہا جائے کیونکہ یہاں خواتین بھی تشریف لاتی ہیں۔۔ میری باتیں دوہرے معیار کی ہیں جو زومعنی ہو سکتی ہیں لیکن غلط شائد نہ ہوں۔۔۔
غنڈا گردی؟ آخر آپ ہماری زاتی غلطیوں کو اسلام سے کیوں تعبیر کرتے ہیں؟ آپ کا مطلب ہے میں کوئی جہادی ہوں جو اسلام کے نام پر غنڈہ گردی کروں گا۔۔ دیکھتے ہیں اگر میں آپ کے والد کو آپ کے سامنے گالیاں دوں، ان کا گریبان پکڑوں، ان کے طمانچے ہی مار دوں تو یہ میری بدتمیزی، جہالت اور بد تہزیبی تو ہے ہی لیکن آپ مجھے کونسی زبان سے روکیں گے؟ کیا میرے پاؤں پکڑیں گے یا میری منتیں کریں گے؟ اگر میں پھر باز نہ آیا تب آپ کا عمل کیا ہوگا؟ یاد رکھیے زکریا کمزوری ہمیشہ تشدد کو ہی بلاتی ہے، پوری امت کو چند روشن خیال غداروں نے اس قدر کمزور کر دیا ہے کہ بیچاری پوری قوم اب دنیا سے مار کھا رہی ہے تو کس قدر منتیں کریں وہ؟ کیا برداشت کی کوئی حد نہیں ہوتی؟ ان پر ظلم پر ظلم ہو رہے ہیں وہ کسی کو نظر نہیں آتے لیکن حزب اللہ اور حماس کوئی کارروائی کریں تو وہ روشن خیالوں کی دانست میں دہشت گردی ہے۔۔
اسرائیل اگر دھڑا دھڑ فلسطینیوں اور لبنانیوں کو مر رہا ہے تو یہ ان کی کمزوری ہے اور ظلم سہ سہ کر انسان تشدد پسند ہی بنتا ہے اور مزید ڈھیٹ ہی ہوتا جاتا ہے یہ انسان کی فطرت ہے، یہودیوں کے ھولوکاسٹ میں 6 میلین یہودیوں کو نازیوں نے مارا تو اس کا زکر آپ ہر جگہ کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں لیکن کہیں بھی آپ کی کوئی ایسی تحریر نہیں دیکھی جہاں آپ نے 2٫3 میلین مسلمانوں کی بغداد میں تاتاریوں کے ہاتھوں ہلاکت پر کوئی افسوس کیا ہو۔۔ کہیں ایسی تحریر نہیں دیکھی جہاں آپ نے فلسطین، لبنان یا شام، عراق، افغانستان حتیٰ کہ کشمیر پر کیے جا رہے مظالم پر ہی کچھ لکھا ہو۔۔ آخر آپ لوگ چاہتے کیا ہیں؟بات پھر وہی خون کا بدلہ خون ہی ہوتا ہے وہ اگر ہمارے ساتھ روشن خیالی سے پیش آتے ہیں تو ہم کیوں انتہا پسندی کریں؟ لیکن اگر وہ ظلم اور بربریوت کو جاری رکھتے ہیں تو انہیں سبھی کچھ سہنا ہی ہوگا۔۔ کوئی جہادی جو کہ خود امریکہ یورپ کے بنائے ہوئے ہیں کوئی حملہ کرے تو اس کو اسلام سے کیوں ملایا جاتا ہے؟ جیسے آپ نے میری باتوں کو اسلام سے ملایا یہ سب دیکھ کر تو لگتا ہے آپ لوگ کوئی موقع ڈھونڈتے رہتے ہیں اسلام کے خلاف بات کرنے کا۔۔۔ مجھے غنڈہ گرد کہیے یہ ایک الگ مسئلہ ہے لیکن آپ نے یہ بات کیوں کہی کے آپ کو یہ اسلام نے سکھایا ہے؟ آپ کسی ہندو کے منہ پر اس کے بھگوان کو وہ بکواسیات کہیں جو شیعب جاری رکھے ہوئے ہے تو میں دیکھتا ہوں کے وہ آپ کے دانت توڑتا ہے یا نہیں یا کسی یہودی کے سامنے اس کے خدا یا کسی عیسائی کے سامنے جیسس کو گالی دے کر تجربہ کر لیجیے، پھر جو ان کا رد عمل ہوگا وہ ان کا مذہب ہی سکھاتا ہو گا؟ اور میں نے کس جگہ پر خود کو بہت بڑا عملی مسلمان گردانا ہے؟
کسی محترمہ نے تبصرہ کیا ہے اور اپنا نام ایک مسلمان لکھا ہے مجھے کہا گیا ہے
“جناب شعیب جو بھی کر رہے ہیں میں اس پر کچھ نہین کہوں گی کیونکہ انہوں نے کبھی اپنے آپ کو عملی مسلمان نہیں کہا مگر جس انداذ میں آپ یا آپ کے حامی جس طرذ گفتگو کا مظاہرہ کر رہے ہیں اس کی مۃال بھی مجھے سیرت نبی صلی اللھ و علیھ وسلم میں نہیں ملتی۔ عملی مسلمان با تہذیب ہوتا ہے نہ کہ بد تمیز۔“
محترمہ اگر شیعب نے خود کو عملی مسلمان نہیں کہا ہے تو میں نے بھی کب کہا اور بدتمیز ہونا بد تہزیب ہونے سے میرے نزدیک بہتر ہے، کیا مسلمانوں کے بچے بدتمیز نہیں ہوتے؟ دوسرے ہم میں شائد ہی کوئی عملی مسلمان ہو، نہ نماز نہ روزہ جھوٹ، مکاری، ریا کاری سب کچھ تو کرتے ہیں ہم۔۔ پھر بھی میں لکھ چکا ہوں کہ بدتمیز میں بطور تخلص لکھتا ہوں اور مجھ سے پہلے بھی ایک صاحب اسی نام سے یہاں موجود ہیں۔۔
پھر بھی یہ انتہا پسندی ہے تو میں ہوں، اصل میں ہمارے اپنے کچھ دہریے ہمارا مسلمان ہونا ہی انتہا پسندی کہتے ہیں تو غیروں سے کیا اعتراض۔۔
خدا کی شان میں بے عزتی سہنا کمزوری اور نامردی کی نشانی ہے نہ کے روشن خیالی اور الحمدللہ میں عملی نہ سہی لیکن مسلمان مرد ہوں جو خدا پر اندھا اعتقاد رکھتا ہے۔۔
میرا پاکستان نے بھی میری تحریروں کو خاور کے بلاگ پر غیر معیاری کہا تھا۔ جس پر مجھے کوئی افسوس نہیں وہ نہیں جانتے کہ میرا مشن بھی وہی ہے جو ان کا ہے بس مزاج اور تحریریں زرا مختلف ہوتی ہیں۔۔
3 comments July 22, 2006