Archive for July 13th, 2006
اعتراضات کے جوابات
مجھے آتے ہی لینے کے دینے پڑ گئے، زکریا نے تنقید کی لیکن تنقید ایک بہت اچھی چیز ہے اگر یہ تعمیر کے لیے کی جائے۔۔ شیخو صاحب کا انداز واقعی کچھ جاننے والا تھا اور وہ یہ جانتے ہیں کہ کیسے لکھا جاتا ہے، میں نے آپ کو کوئی رگڑا نہیں لگایا جناب، صرف آپ کی بات کا جواب دیا تھا۔ مجھے خوشی ہوئی آپ کی تنبیح اور ہنسی مزاق میں کی گئی تنقید پر۔۔ شکریہ مجھے تو یہ میرا استقبال لگا اور شکریہ شہزادے کے خطاب کے لیے وہ تو میں ہون ہی ؛)۔۔ اور حقیقتا مجھے آپ کی تحریر پسند آئی۔۔ میں نے گولہ اصل میں حقائق کو اجاگر کرنے کے لیے داغا تھا۔ اور جناب میں نے قطعا یہ نہیں کہا کے آپ نے مجھ پر الزام لگایا ہے کیونکہ لکھنے والے کی تحریر سے طنز محسوس کیا جاسکتا ہے۔۔۔ اور
نعمان نے جو برہم الفاظ لکھے ہیں ان پر اگر میں کچھ لکھوں گا تو مجھ میں اور اس میں کئی فرق نہیں رہ جائے گا۔۔۔ ویسے بھی اچھی بری سب سہنی پڑتی ہیں، لیکن نعمان نے جب لکھا “لوگ آپ کے نبی کے بارے میں کارٹون بنادیں تو آپ لوگ چراغ پا ہوجاتے ہیں اور دوسروں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا اپنا فرض سمجھتے ہیں“۔۔۔ تو نعمان اگر معلوماتمیں کمی ہو تو بات نہیں کرنی چاہیے، کیا وہ آپ کے نبی نہیں تھے؟ یا اس پر چراغ پا ہونا بھی شائد آپ کی دانست میں اشتعال ہوگا ہماری نہیں، اگر آپ احمدیت کو نہیں جانتے یا پاکستان سے باہر ہیں تب تو آپ کی بات سمجھ میں آتی ہے لیکن کراچی جیسے شہر میں رہتے ہوئے آپ ان سے بے خبر ہیں؟ میں سیالکوٹ میں رہتا ہوں یہاں احمدیوں کا ایک خاص علاقہ ہے جس میں زیادہ تر احمدی رہتے ہیں یا ہندو، اب یہ لوگ جب لوگوں کو اپنی تبلیغ کر رہے ہوں اور ایک طرف کوئی عالم خواہ وہ خود روشن خیال ہو کوئی محفل کر رہا ہو یا لوگوں کی دین کی بات سکھا رہا ہو تو وہ شدت پسند ہو جاتا ہے جبکہ احمدی مظلوم؟ برصغیر کے دشمن ہیں یہ لوگ، اگر یقیں نہیں تو تاریخ دیکھیے، یہاں لوگوں کو اندھا دھند پیسے دے کر احمدی کرتے ہیں اور بعض کو امریکہ بالخصوص کینیڈا اور برطانیہ کے ویزے دلاتے ہیں یہ کیا یہی ان کی سچائی ہے؟
شیخو صاحب جہاں تک مرزا کی گالیوں والی بات ہے اس کی تصدیق کی جا سکتی ہے کیونکہ اس شہر میں انگریزوں کی غلامی کرتا رہا ہے تو یہاں کے لوگ اس کے بارے میں شائد دوسرے شہروں کی نسبت زیادہ جانتے ہیں، وہ واقعی ایک بد گو شخص تھا۔۔
نعمان اور زکریا کو کسی کالو صاحب نے جواب میں الٹا سیدھا لکھا ہے میں ان سے اپیل کرتا ہوں کے اگر آپ کا بلاگ نہیں ہے تو کم از کم اپنا ای میل ضرور دیتے۔۔ بات حق اور دلیل کے ساتھ کی جائے تو اس میں وزن ہوتا ہے۔۔ ان پر اس بحث میں پڑنے کے لیے اپنا ای میل بھی لکھیے تاکہ اگر وہ چاہیں تو آپ سے باضابطہ بات کر سکیں۔ مزید میں کچھ نہیں کہ سکتا لیکن بہر حال شکریہ آپ کے تبصرے پر بھی۔۔
مجھے اپنے مزید استقبال کی امید ہے۔۔
ابھی تو ابتدائے بلاگنگ ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
3 comments July 13, 2006
ہتھ بھاری رکھنے اور بدتمیزی کی حد سے گزرنے کے بعد
زکریا صاحب نے میری پچھلی تحریر پر تبصرے میں جو لکھا اور شیخو صاحب نے اس پر ایک نئی تحریر کے زریعے مجھ سے “ہتھ ہولا رکھنے“ کا کہا، جہاں شیخو صاحب کو جواب دینا چاہا وہاں سوچا کے زکریا کو بھی تبصرے کی بجائے یہیں جواب دے دیا جائے۔ زکریا کا تبصرہ یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔۔۔زکریا نے مجھے لکھا بدتمیزی کی حد کرنے کا جس پر مجھے کوئی غصہ نہیں آیا کیونکہ سو تو میں ہوں۔۔ ان کو افسوس ہوا میرا زاتیات پر اترنا اور اسم بمسمٰی نکلنا۔۔ لیکن اس پر بھی غصہ نہیں آیا کیونکہ شائد انہوں نے ٹھیک لکھا ہے۔
آپ اگر افسوس کسی دوسرے کو نشانہ بنانے پر کرتے تو شائد میں اس کا جواب نا دیتا کیونکہ وہ واقعی بدتمیزی ہوتی، اب مرزا کے پیروکار جو کر رہے ہیں اس کا جواب دینا بھی ضروری ہے، میں نے بدتمیزی بلا شبہ کی ہے مگر آپ اس سے پہلے میرا نام و بلاگ کا نام غور سے دیکھتے تو آپ اس بات کو نہ اٹھاتے۔ اور اس پر بس نہیں میں خود اپنے ہاتھوں سے یہ اقرار لکھ چکا ہوں کہ میں بدتمیز ہوں اور ڈھیٹ بھی۔۔ زاتیات پر واقعی نہیں اترنا چاہیے لیکن زکریا صاحب جس شہر میں میں رہتا ہوں مرزا وہاں پر انگریز کا نوکر رہ چکا ہے میرے پاس ابھی زیادہ حوالے تو نہیں لیکن جلد ہی کوشش کر کے اس کے بارے میں مزید لکھوں گا۔ لیکن مرزا کے پیرو کار جیسے یہاں اپنی تبلیغ جاری رکھے ہیں یہ برداشت سے باہر ہے۔ یا تو ہماری حکومت اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ان کو ان کے کاموں سے روکے وگرنہ ان کی تبلیغ سے ایک مسلمان کو کافر ہوتے دیکھنا انتہائی مشکل امر ہے۔۔ احمدیوں کو کو جتنے مرضی حوالے دو یہ کبھی نہیں مانتے، پہلے تو یہ پھر کچھ سہم کر رہتے تھے اور اپنی فرعونیت کو آہستہ آہستہ پھیلاتے تھے مگر جب سے پرویز مشرف پاکستان پر قبضہ کیے ہوئے ہے تب سے یہ گیدڑ شیر ہو گئے ہیں، کوئی پوچھ گچھ نہیں وہ اپنے رسالوں میں کتابچوں میں اور اخبارات میں کیا کچھ چھاپ رہے ہیں۔۔۔۔ اور تبلیغ کے لیے کیا کچھ کر رہے ہیں۔۔
یہ تو کچھ محمد صلی علیہ وسلم کے جانثار ہیں جو اپنے بل بوتے پر ان سے نبٹتے ہیں اور بعد میں شدت پسند اور جاہل مولوی اور دہشت گرد اور نہ جانے کیا کچھ کہلوتے ہیں۔۔
شیخو صاحب! جتنے منہ اتنی باتیں میرے جاننے کے مطابق مرزا یا تو کانا تھا یا بھینگا، لیکن اگر میں غلط بھی ہوں تب بھی کیا خدا کے نبی بھنگ اور افیم بھی پیتے ہیں؟ کچھ کہتے ہیں مرزا جب مرا تھا اس وقت اس کے منہ سے ٹٹی (پاخانہ) نکل رہا تھا کچھ کا کہنا ہے کے وہ مرا ٹٹی (پاخانے) کے اوپر گر کر تھا جس کی وجہ سے ایسا لگتا تھا کے اس کے منہ سے پاخانہ خارج ہو رہا ہو۔۔
افسوس تو مجھے بھی بہت ہوتا ہے آج کل جب اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو ان کا ہمدرد دیکھتا ہوں تو(زکریا یا شیخو صاحب ان میں شامل نہیں نہ ان پر بات کی گئی ہے) خون کھولتا ہے، میں کسی پر الزام نہیں لگا رہا ایک حقیقت کی بات کر رہا ہوں، بطور انسان احمدیوں کو مارنا، قتل کرنا یا بلا وجہ تنگ کرنا یا ان کے زاتی مسلوں میں دخل دینا بیشک غلط ہے، لیکن انہیں اپنے انسان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی حرکات سے باز آنا چاہیے۔۔ تاکہ بطور “انسان“ ان کو کچھ نہ کہا جائے
4 comments July 13, 2006