جشن آزادی مبارک

تمام لوگوں کو جشن آزادی مبارک ہو۔

اللہ پاکستان کو سہی معنوں میں اسلامی جمہوریہ بنائے اور اسے ایک فوجی آمر سے آزاد کرائے، دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرائے آمین۔

4 comments August 13, 2006

غنڈہ گرد ہوں میں

زکریا صاحب آپ کو ویسے تو ہر بات پر افسوس ہوتا ہے، لیکن ایک طرف آپ روشن خیال ہونے کا کہ کر خود بات کو مختلف زاویوں سے نہیں دیکھتے بلکہ صرف روشن خیالی کی طرف سے ہی دیکھتے ہیں۔ پولیس تب تک مجرم کو نہیں پکڑ سکتی جب تک خود کو مجرم کی جگہ رکھ کر نہ سوچے۔۔ تو آپ صرف روشن خیال رہ کر کیا کر پائیں گے؟ کالو نے جو زبان استعمال کی ہے میں پچھلی کسی تحریر کے تبصروں میں اس کی مذمت کر چکا ہوں، اور اب بھی کرتا ہوں گو میری خود کی زبان کچھ شائستہ نہیں مگر۔۔۔ گالیوں سے اجتناب ہی کر رہا ہوں۔۔۔ جہاں تک اپنے بلاگ پر ایسی زبان کو اپنے بلاگ پر نہ برداشت کرنا خود آپ کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوگی۔ میں اس کا تبصرہ ختم نہیں کروں گا، آزادی اظہار رائے کے نام پر اگر خود کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نشانہ بنوانا روشن خیالی ہے تو کالو کے تبصروں کو بھی ختم نہیں کیا جائے گا۔۔۔ ہاں کالو سے اتنا ضرور کہوں گا کہ زرا تہزیب کے دائرے میں رہا جائے کیونکہ یہاں خواتین بھی تشریف لاتی ہیں۔۔ میری باتیں دوہرے معیار کی ہیں جو زومعنی ہو سکتی ہیں لیکن غلط شائد نہ ہوں۔۔۔

غنڈا گردی؟ آخر آپ ہماری زاتی غلطیوں کو اسلام سے کیوں تعبیر کرتے ہیں؟ آپ کا مطلب ہے میں کوئی جہادی ہوں جو اسلام کے نام پر غنڈہ گردی کروں گا۔۔ دیکھتے ہیں اگر میں آپ کے والد کو آپ کے سامنے گالیاں دوں، ان کا گریبان پکڑوں، ان کے طمانچے ہی مار دوں تو یہ میری بدتمیزی، جہالت اور بد تہزیبی تو ہے ہی لیکن آپ مجھے کونسی زبان سے روکیں گے؟ کیا میرے پاؤں پکڑیں گے یا میری منتیں کریں گے؟ اگر میں پھر باز نہ آیا تب آپ کا عمل کیا ہوگا؟ یاد رکھیے زکریا کمزوری ہمیشہ تشدد کو ہی بلاتی ہے، پوری امت کو چند روشن خیال غداروں نے اس قدر کمزور کر دیا ہے کہ بیچاری پوری قوم اب دنیا سے مار کھا رہی ہے تو کس قدر منتیں کریں وہ؟ کیا برداشت کی کوئی حد نہیں ہوتی؟ ان پر ظلم پر ظلم ہو رہے ہیں وہ کسی کو نظر نہیں آتے لیکن حزب اللہ اور حماس کوئی کارروائی کریں تو وہ روشن خیالوں کی دانست میں دہشت گردی ہے۔۔

اسرائیل اگر دھڑا دھڑ فلسطینیوں اور لبنانیوں کو مر رہا ہے تو یہ ان کی کمزوری ہے اور ظلم سہ سہ کر انسان تشدد پسند ہی بنتا ہے اور مزید ڈھیٹ ہی ہوتا جاتا ہے یہ انسان کی فطرت ہے، یہودیوں کے ھولوکاسٹ میں 6 میلین یہودیوں کو نازیوں نے مارا تو اس کا زکر آپ ہر جگہ کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں لیکن کہیں بھی آپ کی کوئی ایسی تحریر نہیں دیکھی جہاں آپ نے 2٫3 میلین مسلمانوں کی بغداد میں تاتاریوں کے ہاتھوں ہلاکت پر کوئی افسوس کیا ہو۔۔ کہیں ایسی تحریر نہیں دیکھی جہاں آپ نے فلسطین، لبنان یا شام، عراق، افغانستان حتیٰ کہ کشمیر پر کیے جا رہے مظالم پر ہی کچھ لکھا ہو۔۔ آخر آپ لوگ چاہتے کیا ہیں؟بات پھر وہی خون کا بدلہ خون ہی ہوتا ہے وہ اگر ہمارے ساتھ روشن خیالی سے پیش آتے ہیں تو ہم کیوں انتہا پسندی کریں؟ لیکن اگر وہ ظلم اور بربریوت کو جاری رکھتے ہیں تو انہیں سبھی کچھ سہنا ہی ہوگا۔۔ کوئی جہادی جو کہ خود امریکہ یورپ کے بنائے ہوئے ہیں کوئی حملہ کرے تو اس کو اسلام سے کیوں ملایا جاتا ہے؟ جیسے آپ نے میری باتوں کو اسلام سے ملایا یہ سب دیکھ کر تو لگتا ہے آپ لوگ کوئی موقع ڈھونڈتے رہتے ہیں اسلام کے خلاف بات کرنے کا۔۔۔ مجھے غنڈہ گرد کہیے یہ ایک الگ مسئلہ ہے لیکن آپ نے یہ بات کیوں کہی کے آپ کو یہ اسلام نے سکھایا ہے؟ آپ کسی ہندو کے منہ پر اس کے بھگوان کو وہ بکواسیات کہیں جو شیعب جاری رکھے ہوئے ہے تو میں دیکھتا ہوں کے وہ آپ کے دانت توڑتا ہے یا نہیں یا کسی یہودی کے سامنے اس کے خدا یا کسی عیسائی کے سامنے جیسس کو گالی دے کر تجربہ کر لیجیے، پھر جو ان کا رد عمل ہوگا وہ ان کا مذہب ہی سکھاتا ہو گا؟ اور میں نے کس جگہ پر خود کو بہت بڑا عملی مسلمان گردانا ہے؟

کسی محترمہ نے تبصرہ کیا ہے اور اپنا نام ایک مسلمان لکھا ہے مجھے کہا گیا ہے
“جناب شعیب جو بھی کر رہے ہیں میں اس پر کچھ نہین کہوں گی کیونکہ انہوں نے کبھی اپنے آپ کو عملی مسلمان نہیں کہا مگر جس انداذ میں آپ یا آپ کے حامی جس طرذ گفتگو کا مظاہرہ کر رہے ہیں اس کی مۃال بھی مجھے سیرت نبی صلی اللھ و علیھ وسلم میں نہیں ملتی۔ عملی مسلمان با تہذیب ہوتا ہے نہ کہ بد تمیز۔“

محترمہ اگر شیعب نے خود کو عملی مسلمان نہیں کہا ہے تو میں نے بھی کب کہا اور بدتمیز ہونا بد تہزیب ہونے سے میرے نزدیک بہتر ہے، کیا مسلمانوں کے بچے بدتمیز نہیں ہوتے؟ دوسرے ہم میں شائد ہی کوئی عملی مسلمان ہو، نہ نماز نہ روزہ جھوٹ، مکاری، ریا کاری سب کچھ تو کرتے ہیں ہم۔۔ پھر بھی میں لکھ چکا ہوں کہ بدتمیز میں بطور تخلص لکھتا ہوں اور مجھ سے پہلے بھی ایک صاحب اسی نام سے یہاں موجود ہیں۔۔

پھر بھی یہ انتہا پسندی ہے تو میں ہوں، اصل میں ہمارے اپنے کچھ دہریے ہمارا مسلمان ہونا ہی انتہا پسندی کہتے ہیں تو غیروں سے کیا اعتراض۔۔
خدا کی شان میں بے عزتی سہنا کمزوری اور نامردی کی نشانی ہے نہ کے روشن خیالی اور الحمدللہ میں عملی نہ سہی لیکن مسلمان مرد ہوں جو خدا پر اندھا اعتقاد رکھتا ہے۔۔

میرا پاکستان نے بھی میری تحریروں کو خاور کے بلاگ پر غیر معیاری کہا تھا۔ جس پر مجھے کوئی افسوس نہیں وہ نہیں جانتے کہ میرا مشن بھی وہی ہے جو ان کا ہے بس مزاج اور تحریریں زرا مختلف ہوتی ہیں۔۔

3 comments July 22, 2006

دہریے اور آزاد خیال

لعنت ہو بے دہریوں پر۔

شیخو صاحب نے جو مسئلہ اٹھایا ہے وہ بلا شبہ جائز ہے، شعیب اگر میرے سامنے ہوتا یا میں امارات یا بھارت میں ہوتا تو اس کے جبڑے بلکہ اس کے ہاتھ توڑتا جن کے ساتھ یہ بکواسیات لکھ رہا ہے، ہاں میں بدتمیز ہوں، میں ایسا ہی کرتا۔۔ میں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں لکھا جس پر مجھے کوئی شرمندگی نہیں، اور وہ سب لکھا بھی اس لیے تھا کیونکہ اس لعنتی نے دوسرے الفاظ میں اللہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کی تھی، جب قرآن ختم ہو گیا تو یہ نیا نبی کیا لایا؟ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق وہ آخری نبی ہیں تو قادیانی کہاں سے آ ٹپکا۔ خدا کی قسم اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک الفاظ پر آنکھیں بند کر کے یقین کرنا ہی مسلمانی سمجھتا ہوں، آخری نبی کا دور ختم ہو گیا، اس کے بعد جو نبی کہلانے کی کوشش کرے گا وہ کافر مردود مرتد اور دجال ہوگا۔

شیعب خود کو علامہ اقبال یا غالب کی روحانی اولاد سمجھنا چھوڑو اور تہزیب کے دائرے میں رہو، یا کوئی جواز پیش کرو ان سب بکواسیات کا۔ علامہ اقبال کے شکوے سے خود کی بے راہ روی کو مت ملاؤ، ان کی بات میں معرفت تھی جبکہ تمہاری بکواس میں صرف تعصب ہے، اور خدا کوئی بش یا مشرف نہیں جس کو بے عزتی کی محفلوں میں زیر بحث لایا جائے، خدا کی لعنت آئی تو سبھی معرفت ٹھکانے لگ جائیں گی، اگر تم ہندو ہو یا قادیانی یا کچھ اور تو کھل کر سامنے آؤ کوئی تمہیں کھائے گا نہیں۔۔ لعنت ہے تمہاری آزادی اظہار رائے پر، اور یاد رکھا جائے زکریا صاحب نے جو احکامات صادر فرمائے ہیں کہ مطابق میں نے جو مرزائیت پر لکھا اس کو شیعب کی بکواس کے ساتھ مت ٹھہرایا جائے، میں نے مرزا قادیانی پر جو لکھا تھا سب حقائق پر مشتمل تھا۔ دوسرے وہ کوئی خدا نہیں ہے وہ تو دجال تھا جو ایک نہائیت اعلیٰ مقام پر اپنے انجام کو پہنچا۔۔ اس کے علاوہ میں نے کسی کے خدا پر کچھ نہیں لکھا اور نہ ہی میں نے کسی دوسرے بلاگر کی کوئی ایسی تحریر دیکھی، لیکن اگر کوئی خود سے ہمارے خدا پر کچھ الٹا سیدھا لیکھے گا تو ضبط کے سبھی بندھ ٹوٹ جائینگے اور تہزیب کے سبھی دائرے تباہ کر دونگا۔۔۔

ہماری کوئی اوقات نہیں کے اللہ جل شانہ کو اتنی بد تہزیبی سے مخاطب کریں، خدا کا قہر ٹوٹا تو ساری روشن اور آزاد خیالی“ کہیں“گھس جائے گی۔۔ نیز ایک اور بات اگر یہ سب بند نہ ہوا تو لفظوں کی کھلی جنگ کے ساتھ ساتھ میں کوئی دوسرا قدم بھی اٹھا سکتا ہوں۔۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ اس کے بعد اگر مجھے بھی بلاک کرنے کی کوشش کی گئی تو شیخو کی طرح میں بھی وہ تمام مراحل طے کروں گا جس کے بعد اردو ویب کے لیے مشکلات کا دور شروع ہو سکتا ہے۔۔

شیعب نے جو طنز اجمل صاحب اور افضل صاحب پر کیا ہے اس کے جواب میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے، ان لوگوں میں بہت برداشت ہے جو تمہاری واہیاتی کو پی گئے۔۔ وہ اگر مذہبی لکھتے ہیں، اگر اسلام کی بات کرتے ہیں تو اس سے تمہارے کیوں جلن ہوتی ہے؟ تم بھی اپنے مذہب کے بارے میں کیوں نہیں لکھتے؟ اس تحریر کے بعد جسے مجھے شدت پسند سمجھنا ہے سمجھے، لیکن میری ضرب کی فہرست میں شیعب بھی شامل ہو چکا ہے۔ اس کو نہائیت بدتمیزی سہنی ہوگی اگر اس نے اپنی گھٹیا بکواس نہ ختم کی۔ بلا شبہ مجھے اس سے رشتہ داری نہیں کرنی ہے۔۔۔

6 comments July 21, 2006

بیوقوفیاں

میں نے آتے ہی بدتمیزیوں کے ساتھ بیوقوفیاں بھی شروع کر دیں۔۔۔ بدتمیز اول صاحب!!! یار میں یہ جتانے کے لیے کہ میں پہلا اور بڑا بدتمیز ہوں خود کہ نمبر ایک نہیں گردانتا۔۔ یہ تو صرف شغل کے لیے کیا ہے یار تاکہ موضوع گرم رہے، میرے خود کو نمبر ایک کہنے سے تم دو نمبر تو نہیں ہو جاؤ گے۔۔۔ لگتا ہے میں نے بدتمیزیوں کے ساتھ ساتھ ضرورت سے زیادہ شوخیاں بھی کر ڈالی ہیں جس پر آپ لوگ نالاں ہیں۔۔۔ اگر کسی کے تکلیف ہو اور اگر کسی کو اعتراضات ہیں تو۔۔۔

تو۔۔۔۔

 

 

اپنے ہپاس ہی رکھیے۔۔۔ (؛

خیر میں حقیقتا کہ رہا ہوں اگر کسی کو میری شوخیاں پسند نہیں ہیں تو میں بلاگنگ چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔ میرا مقصد یہاں صرف تعصب جو کے کچھ اصحاب چند مذہب پسند افراد کے خلاف پھیلا رہے ہیں سے ہٹ کر کچھ لکھنا تھا۔۔۔ اور یار پاکستانی ہیروئینوں سے ملا کر مابدولت کی بے عزتی کر دی۔۔ یار میں بدتمیز ہوں بدکردار نہیں۔۔ اور ہم دشمن تو نہیں ہیں یار۔۔۔ بدتمیز بدتمیز کا درد پہچان سکتا ہے تو سمجھو یار۔۔۔

3 comments July 21, 2006

سیالکوٹ کے ککڑ

خاور صاحب کی معرفت سے بھرپور چوٹ جو انہوں نے بجائے میرے سبھی سیالکوٹیوں پر کر دی اس پر یہی کہوں گا کہ یار چھوڑو بھی سیالکوٹیوں کا اتنا خاکہ میری وجہ سے خراب نہ کرو یار۔۔ آخر تم بھی تو “خاصے“ اچھے لطائف لکھتےہو۔۔ میری زات کو لے کار پورا شہر خراب ہو گیا کیا؟ ابھی کل واپس آیا ہوں تو لاہور والے کزن نے بھی یہی باتیں کیں اور میں کہ آیا کہ“ گلاں وی سیالکوٹیاں نوں تے بھیناں وی سیالکوٹیاں نوں؟“ بھئی میری ممانی لاہور کی ہیں ماموں سیالکوٹ کے، ایک کزن سیالکوٹ کا ہے تو اس کی بیوی لاہورن، اب دور کے ایک چچا ہیں ان کی بیگم بھی لاہور کی ہیں، ایک تو رشتہ لو دوسرے گالیاں کھاؤ؟ لیکن لاہور لاہور اے اور شیخو صاحب بھی لاہوریے ہی ہیں، اس لیے لاہوریوں کو کچھ نہیں کہنا چاہتا۔۔۔ شیخو صاحب کا مجھے شہزادہ کا خطاب دینا گویا مجھے شہ دینا تھا۔۔۔ ہاہا میں بدتمیزوں کا شہزادہ ہوں۔۔۔

اور یار لاہور والے اکثر ایک تعریف بھی کرتے ہیں سیالکوٹیوں کی کے یہ بہت بہادر ہوتے ہیں۔۔ اب یہ وہی جانیں۔۔ جہاں تک بات ہے سیالکوٹیوں کی تو یار یہاں آکر دیکھو یہ کیسا شہر ہے، میں بدتمیز ہوں شہر نہیں، بدتمیز بدتمیز ہی ہوا کرتے ہیں۔۔۔ بدتمیزی نہیں کریں گے تو کیا کریں بھائی۔۔ اور یقینا میرا گھرانا مہذب ہے ہاں میں نہیں ہوں اور یہ تو نعمان بھی کہ چکا ہے آخر وہ میرا س۔۔۔۔۔ ہے

میرے والد شاہ نہیں ہیں اور تمہیں ان کی کیا ضرورت آ گئی بھئی؟ بڑے شرارتی ہو ان میں اپنی ولدیت ڈھونڈ رہے ہو؟ اور غور سے سوچو کہ میں بدتمیز ہوں اس کا میرے گھر سے کوئی تعلق نہیں وہ تو مجھے پہلے ہی سے “شیر“ کی آنکھ سے دیکھتے ہیں ظاہر ہے میں گیدڑ تو ہوں نہیں۔۔۔

ہم جنس پرستی۔۔۔۔؟؟؟ یار یہ سیالکوٹی بھی “کڑکی“ لگانے سے باز نہیں آتے سیالکوٹ کے ککڑ بھی بڑے خراب ہیں کم از کم مہمان کا ہی خیال کیا ہوتا۔۔۔۔ اتنی ککڑوں کڑوں کی اور اتنے ٹھونگے لگائے کہ خاور صاحب کو فرانس بھگا دیا۔۔۔ چلو ککڑیوں پر ہی اکتفا کیا ہوتا۔۔

حرامی بھی بہت عجیب چیز ہے، یہ کہیں بھی ہو حرامی ہی رہتا ہے اور اس بات کو ابن صٍی صاحب اچھی طرح جانتے تھے۔۔ اور سنگ ہی صاحب پاکستان میں ہوں یا فرانس میں یہ متعارف خود کو ویسے ہی کراتے ہیں جیسے ابن صفی نے انہیں کرایا۔۔ حرامی سے یاد آیا ابھی چند ایک کی لینی ہے۔۔۔ خبر تو وہ تیار ہو جائیں۔۔۔۔

یار خاور میں صرف مذاق کر رہا ہوں دل پہ مت لینا یار۔۔۔ یہ جگت بازی تو تمہیں پتہ ہے ہوتی ہی رہتی ہے میری کسی بات سے تکلیف ہوئی ہو تو معذرت۔۔۔۔ میں نے قطعا تمہاری کسی بات کا برا نہیں منایا لیکن یار ایسے کو تیسا تو کرنا ہی ہے۔۔۔۔

خیر میں پھر ایک عرض کروں گا کے شہروں کا تعصب مت پھیلائیے ہم کوئی ایم کیو ایم کے پیروکار نہیں جو پاکستان کو توڑنا چاہیں۔۔ اب صرف نعمان کی وجہ سے میں سارے کراچی والوں یا ایم کیو ایم کی وجہ سے ہر محاجر کو برا تو نہیں کہ سکتا ؟ سیالکوٹ ہو یا لاہور پیشاور ہو یا کوئٹہ، کراچی ہو یا مظفر آباد سب ایک ہیں، ہم میں کوئی فرق نہیں ہے۔۔۔۔ شہزاد رائے کا نغمہ “ہم ایک ہیں“ سن لیجیے آپ کو یاد آ جائے گا۔۔۔

1 comment July 21, 2006

بھائیو بہنو!!!

ایک سوال اٹھا ہے!!! میں نے یہ بات دوست سے کی تو اس نے کہا اوپر کپڑا ڈال دو۔۔ یعنی اس کا جواب نہیں ہے۔۔ اب آپ ہی بتایے۔۔

سوال کیا ہے ایک معمہ ہے۔۔ ایک مشہور سیاست دان ایک جگہ خطاب فرما رہے تھے کہ “ماؤں بہنو بھائیو“!!! اب سوال یہ ہے کے ان صاحب کی خود کی دو عدد بیویاں بھی وہیں خطاب سن رہی تھیں۔۔ اب کیا انہیں “ماؤں بہنو “بیویو“ نہیں کہنا چاہیے؟ یا بھائیوں باپوں“ کیوں نہیں بھئی آخر سیاست دانوں کا کیا بھروسہ بظاہر دو دو بیویاں ہو سکتی ہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر باپ بھی وہیں بیٹھے ہوں؟۔۔
جواب درکار ہے۔۔ آپ جواب دیجیے جب تک میں لاہور جا رہا ہوں دو تین دن میں واپسی کی امید ہے مگر ہو سکتا ہے واہاں سے بھی کوئی نیا شوشہ چھوڑ دوں۔۔ آخر پا جی لاہور لاہور اے۔۔ جے لاہور لاہور اے تے سیالکوٹ وی گھٹ نہیں۔۔۔۔ آہو

2 comments July 15, 2006

سستی شہرت پر چوٹ

سستی شہرت خود میں ایک مشہور چیز ہے جس کو استعمال کر کے لوگ دوسروں پر تنقید کرتے ہیں اور خود بھی مشہور ہوتے ہیں۔۔
بدتمیز دوئم (دوئم اس لیے کے میں بتا چکا ہوں میں بلاگ سپاٹ اور جی میل پر ایک پرانااور اول بدتمیز ہوں خواہ کبھی وقت نہیں ملا) بہرحال بدتمیز دوئم نے مزید بدتمیزیاں کے نام سے ایک تحریر لکھی ہے، میری ناقص عقل کے مطابق تو وہ مجھ پر تنقید ہے۔۔ لیکن میں حتمی فیصلہ نہیں کر سکتا کیا دوسرے بلاگرز میری اس میں مدد کریں گے؟

اگر چوٹ مجھ پر کی گئی ہے تو۔۔۔۔ میں یہ بتانا پسند کروں گا کہ مجھے سستی شہرت کا کوئی شوق نہیں۔۔ میں تو یہاں وہی لکھ رہا ہوں جیسا میرا مزاج یا سوچ ہے، اگر کسی کو یہ میری سستی شہرت خاصل کرنے کی کوشش لگتی ہے تو یہ خام خیالی ہے۔۔ جہاں تک برداشت کی بات ہے تو میرے صبر کا امتحان بلاگ پر نعمان آزما چکا ہے۔۔۔ اس کے نزدیک میں مہذب معاشرے میں ایک بدصورت انسان ہوں۔۔ لیکن اس کو گمان نہیں کہ اپنے الفاظ کی گرمی سے مجھے بدصورت کہنے والہ مجھ سے کہیں بدصورت واقعہ ہوا ہو؟ نیز نعمان کے الفاظ ہی آپس میں تضاد کا شکار ہیں ایک جگہ یہ تحاریر میں یہ ثابت کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں کہ پاکستان مہزب معاشرہ ہے ہی نہیں یا “پاکستان اب انسانوں کے رہنے کی جگہ نہیں رہی“۔۔ وغیرہ۔۔ میرے خیال یہاں سے انسانوں کو چلے جانا چاہیے اور صرف ایم کیو ایم کو ہی یہاں رہنے دینا چاہیے۔۔۔ اپنے الفاظ سے کسی کا بھی دل جیتا اور توڑا جا سکتا ہے۔۔ جہاں تک احمدیت کا تعلق ہے میں ان کا دل جیتنا تو دور کی بات توڑنا بھی گوارا نہیں کرتا۔۔ ہاں اگر سچ کی چوٹ سے دل ٹوٹے تو میں زمہ دار نہیں۔۔ نعمان کو نہائت سخت ست بھی سنا سکتا ہوں، جلد ہی اس کی بھی لونگا خبر لیکن فی الحال دوسروں کو موقع دینا چاہیے خوبصورتی کو جانچنے کا۔۔ اجمل صاحب نے یہاں نئے تبصرے میں نعمان کو متعارف کرانے کی کوشش کی ہے آپ یہیں سے اندازہ لگا سکتے ہیں۔۔ میں خود ایک دقیہ نوس جاہل یا تنگ اور چودہ سو سال کی پرانی سوچ والا انسان ہوں۔۔ مجھے روشن خیالی کر کے کسی کے تلوے چاٹنے کی ضرورت نہیں۔

میں روشن خیالوں۔۔ خصوصا نعمان اور ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ جیسے لوگوں (خالی جگہوں میں ایک دو اصحاب اور بھی ہیں لیکن ابھی انہوں نے میرے ساتھ بات نہیں کی اس لیے نام نہیں لکھا) پر بہت پہلے سے ایک لمبی تحریر لکھ چکا ہوں۔۔ لیکن ناجانے کیوں نہیں بھیجی۔۔ اور ان حالات میں تو بالکل بھی نہیں لکھوں گا کیونکہ ابھی لوہا گرم ہے اور میرے ہتھوڑے (تحریر) سے کہیں مڑ نہ جائے۔۔ اس لیے کسی کو کبڑا کرنا کوئی اچھی بات نہیں۔۔۔

بدتمیز دوئم۔۔ میں جاندار ہوں یہ آپ کو کیسے معلوم ہوا (مزاق) کہیں آپ سیالکوٹی تو نہیں؟ یقین جانیے جو آدمی ٩٥ کلو کا وزن اور ٦۔٢ انچ کا قد رکھتا ہو وہ جاندار تو ہوگا ہی۔۔۔

بدتمیز کے دوست! آپ کا زکریا کے ساتھ اتفاق بھی پسند آیا لیکن کیا کروں بدتمیز کے ساتھ ڈھیٹ ہونا بھی ضروری ہوتا ہے میری جان۔۔ بعض چیزیں چھوڑنا آسان نہیں۔۔

پاکی منڈا! آپ کے تبصرے کے بعد آپ کے بلاگ پر پہلی بار جانا ہوا، جان کر خوشی ہوئی کے آپ بھی سیالکوٹی ہیں۔۔ خیر وہاں پر آپ کا پتہ بھی آپ نے لکھا ہے۔۔ تو کیا خیال ہے کسی روز آؤں چائے پر؟ خیر آپ کے تبصرے کا شکریہ جس میں آپ زکریا کے بارے میں بھی لکھ چکے ہیں۔۔ اور جہاں تک آپ نے مرزا اور پاخانے کے زاتی مسئلے کی بات کی ہے میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں۔۔ اورجہاں تک کالعدم کرنے کا سوال ہے تو کس مائی کے لعل آمر میں بھی اتنی ہمت ہے کے مجھے کالعدم قرار دے کیا اسے اپنی عزت پیاری نہیں؟ بدتمیز سب کو ایک نگاہ سے دیکھتا ہے۔۔ کچھ لوگوں کو چھوڑ کر۔۔عامر ہو یا آمر۔۔ میں کسی کو بھی بدتمیزی کا نشانہ بنا سکتا ہوں بوقت ضرورت۔

ریحان مرزا!! آپ کی اپیل سے ایک دلچسپ واقعہ یاد آ گیا۔۔میرا ایک دوست مرزا (بیگ) ہے ہم سب بھی اسے مرزائی کہ کر چڑاتے تھے جس پر وہ بہت کڑہتا تھا اور ایک دن اپنی والدہ سے مرزائیوں کے بارے میں پوچھ کر آیا تو زیادہ برہم ہوا کے یار شرم کرو ہزاروں مرزوں (بیگ) کو کافروں سے ملا رہے ہوجس پر ماسوائے مابدولت سب کو شرمندگی ہوئی اور دوبارا ایسا نہ کرنے کا وعدہ کیا ہمارے گھر کے قریب ایک فیملل ہے جو کہ مرزا (بیگ) ہیں ان کے ایک بیٹے کو بھی سب مرزا اور مزاقا ان کی فیملی کو مرزائی کہا کرتے تھے کہ ایک دن وہ قسموں پر اتر آیا کہ خدارا ایسا مت کرو مجھے کافروں سے مت ملاؤ ہم الحمدللہ مسلمان ہیں۔۔۔ اس پر میں صرف لوگوں کو ریحان مرزا کی اپیل پر عمل کرنے کی درخواست کرتا ہوں کے مرزا قادیانی لکھ لیا کریں یا پھر ریحان کبھی غلطی سے بھی تہ ہو جاتا ہے یار۔۔

انکل ویسے میں خود نام نہیں بتانا چاہتا تھا لیکن اب ٓپ نے مخاطب کرنا ہے تو مجھے گڈو کہ لیجیے یہ میرے پیار کا نام ہے، باقی لوگ بدتمیز ہی کہ لیں زرا دل لگا رہے گا۔۔۔

9 comments July 14, 2006

اعتراضات کے جوابات

مجھے آتے ہی لینے کے دینے پڑ گئے، زکریا نے تنقید کی لیکن تنقید ایک بہت اچھی چیز ہے اگر یہ تعمیر کے لیے کی جائے۔۔ شیخو صاحب کا انداز واقعی کچھ جاننے والا تھا اور وہ یہ جانتے ہیں کہ کیسے لکھا جاتا ہے، میں نے آپ کو کوئی رگڑا نہیں لگایا جناب، صرف آپ کی بات کا جواب دیا تھا۔ مجھے خوشی ہوئی آپ کی تنبیح اور ہنسی مزاق میں کی گئی تنقید پر۔۔ شکریہ مجھے تو یہ میرا استقبال لگا اور شکریہ شہزادے کے خطاب کے لیے وہ تو میں ہون ہی ؛)۔۔ اور حقیقتا مجھے آپ کی تحریر پسند آئی۔۔ میں نے گولہ اصل میں حقائق کو اجاگر کرنے کے لیے داغا تھا۔ اور جناب میں نے قطعا یہ نہیں کہا کے آپ نے مجھ پر الزام لگایا ہے کیونکہ لکھنے والے کی تحریر سے طنز محسوس کیا جاسکتا ہے۔۔۔ اور

نعمان نے جو برہم الفاظ لکھے ہیں ان پر اگر میں کچھ لکھوں گا تو مجھ میں اور اس میں کئی فرق نہیں رہ جائے گا۔۔۔ ویسے بھی اچھی بری سب سہنی پڑتی ہیں، لیکن نعمان نے جب لکھا “لوگ آپ کے نبی کے بارے میں کارٹون بنادیں تو آپ لوگ چراغ پا ہوجاتے ہیں اور دوسروں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا اپنا فرض سمجھتے ہیں“۔۔۔ تو نعمان اگر معلوماتمیں کمی ہو تو بات نہیں کرنی چاہیے، کیا وہ آپ کے نبی نہیں تھے؟ یا اس پر چراغ پا ہونا بھی شائد آپ کی دانست میں اشتعال ہوگا ہماری نہیں، اگر آپ احمدیت کو نہیں جانتے یا پاکستان سے باہر ہیں تب تو آپ کی بات سمجھ میں آتی ہے لیکن کراچی جیسے شہر میں رہتے ہوئے آپ ان سے بے خبر ہیں؟ میں سیالکوٹ میں رہتا ہوں یہاں احمدیوں کا ایک خاص علاقہ ہے جس میں زیادہ تر احمدی رہتے ہیں یا ہندو، اب یہ لوگ جب لوگوں کو اپنی تبلیغ کر رہے ہوں اور ایک طرف کوئی عالم خواہ وہ خود روشن خیال ہو کوئی محفل کر رہا ہو یا لوگوں کی دین کی بات سکھا رہا ہو تو وہ شدت پسند ہو جاتا ہے جبکہ احمدی مظلوم؟ برصغیر کے دشمن ہیں یہ لوگ، اگر یقیں نہیں تو تاریخ دیکھیے، یہاں لوگوں کو اندھا دھند پیسے دے کر احمدی کرتے ہیں اور بعض کو امریکہ بالخصوص کینیڈا اور برطانیہ کے ویزے دلاتے ہیں یہ کیا یہی ان کی سچائی ہے؟

شیخو صاحب جہاں تک مرزا کی گالیوں والی بات ہے اس کی تصدیق کی جا سکتی ہے کیونکہ اس شہر میں انگریزوں کی غلامی کرتا رہا ہے تو یہاں کے لوگ اس کے بارے میں شائد دوسرے شہروں کی نسبت زیادہ جانتے ہیں، وہ واقعی ایک بد گو شخص تھا۔۔

نعمان اور زکریا کو کسی کالو صاحب نے جواب میں الٹا سیدھا لکھا ہے میں ان سے اپیل کرتا ہوں کے اگر آپ کا بلاگ نہیں ہے تو کم از کم اپنا ای میل ضرور دیتے۔۔ بات حق اور دلیل کے ساتھ کی جائے تو اس میں وزن ہوتا ہے۔۔ ان پر اس بحث میں پڑنے کے لیے اپنا ای میل بھی لکھیے تاکہ اگر وہ چاہیں تو آپ سے باضابطہ بات کر سکیں۔ مزید میں کچھ نہیں کہ سکتا لیکن بہر حال شکریہ آپ کے تبصرے پر بھی۔۔

مجھے اپنے مزید استقبال کی امید ہے۔۔

ابھی تو ابتدائے بلاگنگ ہے روتا ہے کیا
آگے   آگے   دیکھیے    ہوتا    ہے   کیا

3 comments July 13, 2006

ہتھ بھاری رکھنے اور بدتمیزی کی حد سے گزرنے کے بعد

زکریا صاحب نے میری پچھلی تحریر پر تبصرے میں جو لکھا اور شیخو صاحب نے اس پر ایک نئی تحریر کے زریعے مجھ سے “ہتھ ہولا رکھنے“ کا کہا، جہاں شیخو صاحب کو جواب دینا چاہا وہاں سوچا کے زکریا کو بھی تبصرے کی بجائے یہیں جواب دے دیا جائے۔ زکریا کا تبصرہ یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔۔۔زکریا نے مجھے لکھا بدتمیزی کی حد کرنے کا جس پر مجھے کوئی غصہ نہیں آیا کیونکہ سو تو میں ہوں۔۔ ان کو افسوس ہوا میرا زاتیات پر اترنا اور اسم بمسمٰی نکلنا۔۔ لیکن اس پر بھی غصہ نہیں آیا کیونکہ شائد انہوں نے ٹھیک لکھا ہے۔

آپ اگر افسوس کسی دوسرے کو نشانہ بنانے پر کرتے تو شائد میں اس کا جواب نا دیتا کیونکہ وہ واقعی بدتمیزی ہوتی، اب مرزا کے پیروکار جو کر رہے ہیں اس کا جواب دینا بھی ضروری ہے، میں نے بدتمیزی بلا شبہ کی ہے مگر آپ اس سے پہلے میرا نام و بلاگ کا نام غور سے دیکھتے تو آپ اس بات کو نہ اٹھاتے۔ اور اس پر بس نہیں میں خود اپنے ہاتھوں سے یہ اقرار لکھ چکا ہوں کہ میں بدتمیز ہوں اور ڈھیٹ بھی۔۔ زاتیات پر واقعی نہیں اترنا چاہیے لیکن زکریا صاحب جس شہر میں میں رہتا ہوں مرزا وہاں پر انگریز کا نوکر رہ چکا ہے میرے پاس ابھی زیادہ حوالے تو نہیں لیکن جلد ہی کوشش کر کے اس کے بارے میں مزید لکھوں گا۔ لیکن مرزا کے پیرو کار جیسے یہاں اپنی تبلیغ جاری رکھے ہیں یہ برداشت سے باہر ہے۔ یا تو ہماری حکومت اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ان کو ان کے کاموں سے روکے وگرنہ ان کی تبلیغ سے ایک مسلمان کو کافر ہوتے دیکھنا انتہائی مشکل امر ہے۔۔ احمدیوں کو کو جتنے مرضی حوالے دو یہ کبھی نہیں مانتے، پہلے تو یہ پھر کچھ سہم کر رہتے تھے اور اپنی فرعونیت کو آہستہ آہستہ پھیلاتے تھے مگر جب سے پرویز مشرف پاکستان پر قبضہ کیے ہوئے ہے تب سے یہ گیدڑ شیر ہو گئے ہیں، کوئی پوچھ گچھ نہیں وہ اپنے رسالوں میں کتابچوں میں اور اخبارات میں کیا کچھ چھاپ رہے ہیں۔۔۔۔ اور تبلیغ کے لیے کیا کچھ کر رہے ہیں۔۔
یہ تو کچھ محمد صلی علیہ وسلم کے جانثار ہیں جو اپنے بل بوتے پر ان سے نبٹتے ہیں اور بعد میں شدت پسند اور جاہل مولوی اور دہشت گرد اور نہ جانے کیا کچھ کہلوتے ہیں۔۔

شیخو صاحب! جتنے منہ اتنی باتیں میرے جاننے کے مطابق مرزا یا تو کانا تھا یا بھینگا، لیکن اگر میں غلط بھی ہوں تب بھی کیا خدا کے نبی بھنگ اور افیم بھی پیتے ہیں؟ کچھ کہتے ہیں مرزا جب مرا تھا اس وقت اس کے منہ سے ٹٹی (پاخانہ) نکل رہا تھا کچھ کا کہنا ہے کے وہ مرا ٹٹی (پاخانے) کے اوپر گر کر تھا جس کی وجہ سے ایسا لگتا تھا کے اس کے منہ سے پاخانہ خارج ہو رہا ہو۔۔

افسوس تو مجھے بھی بہت ہوتا ہے آج کل جب اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو ان کا ہمدرد دیکھتا ہوں تو(زکریا یا شیخو صاحب ان میں شامل نہیں نہ ان پر بات کی گئی ہے) خون کھولتا ہے، میں کسی پر الزام نہیں لگا رہا ایک حقیقت کی بات کر رہا ہوں، بطور انسان احمدیوں کو مارنا، قتل کرنا یا بلا وجہ تنگ کرنا یا ان کے زاتی مسلوں میں دخل دینا بیشک غلط ہے، لیکن انہیں اپنے انسان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی حرکات سے باز آنا چاہیے۔۔ تاکہ بطور “انسان“ ان کو کچھ نہ کہا جائے

4 comments July 13, 2006

احمدیو مجھے دو!!

آج کل ہر طرف احمدی اور احمدیت کا رؤلا ہے۔ یہاں پر ایک صاحب لگا تار احمدیت کا پرچار بھی کیے جا رہے ہیں، اس سب پر بحث تو ہوتی رہی ہے اور ہوتی رہے گی میں اس پر بعد میں کبھی  لکھوں گا اور حوالوں کے ساتھ فی الحال کسی نے مجھے تبصرے پر جہاں انہوں نے اپنا نام مصلحتاً محفوظ رکھا اور اپنے آپ کو بدتمیز کا دوست لکھا نے میرےلکھنے کی تعریف کی اور مزید لکھنے کا کہا۔۔ خیر شکریہ دوستہ کا بھی اور تعریف کا بھی اب دوستی نبھاتے رہی گا۔۔ خیر جیسا کہ آج کل احمدیوں کا موضوع گرم ہےاور جہاں دوسرے احمدیوں کی لے راہے ہیں ویسے میں بھی لے لوں (خبر) خیر اپنی اپنی سوچ کی بات ہے میں نے کچھ غلط نہیں لکھا۔

 میں صرف دو سوالات کروں گا جو کہ نہائت ہی عام ہیں اور ان کو لے کر احمدیت کا خاصہ مضحکہ بھی اڑایا جاتا ہے تو احمدیو مجھے دو۔۔۔۔۔۔۔۔ ان سوالات کے جوابات۔۔،
۔1 مرزا غلام احمد قادیانی اگر خدا کا نبی تھا تو کیا خدا میں اتنی قابلیت نہیں تھی کے اسے مکمل شخصیت بنا سکتا؟ خدا نے جب اپنا آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بنایا تو وہ ایک مکمل شخصیت تھے۔ تو مرزا کو کیوں کانا کر دیا؟

۔2 مرزا غلام احمد قادیانی کو ٹٹی خانے میں موت کیوں واقعہ آئی؟ کیا کسی نبی کو خدا ایسی غلیظ جگہ بھی موت دیتا ہے؟

یہی نہیں اس پر مرزا ٹٹیوں (اسہال) کا مریض بھی تھا۔۔ اب ان باتوں کا کیا جواب ہو سکتا ہے؟ یہ باتیں احمدیت کے پرچار پر کی جا رہی ہیں جن کو سہنا ہی پڑے گا۔

 آئیندہ بھی لکھتے رہنے کی امید سے۔۔ پھر ملیں گے۔ 

8 comments July 12, 2006

Previous Posts


صفحات

Recent Posts

سابقہ تحاریر

Categories – زمرے

 

February 2010
M T W T F S S
« Aug    
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728

متفرقات

بلاگرز

Meta

RSS تازہ ترین خبریں